باقی دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - وہ شخص جس کے ذمے کوئی مطالبہ باقی ہو، وہ آسامی یا کاریگر جس کے ذمہ کوئی رقم واجب الادا ہو۔ "چند باقی دار بزرگوں نے وی پی کے نوٹس لے کر واگزاشت نہیں کرائے۔"      ( ١٩٣٣ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ١٧، ٨:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'باقی' کے ساتھ فارسی مصدر داشتن سے مشتق صیغۂ امر 'دار' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'باقی دار' مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٨٥٤ء میں دیوان اسیر میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ شخص جس کے ذمے کوئی مطالبہ باقی ہو، وہ آسامی یا کاریگر جس کے ذمہ کوئی رقم واجب الادا ہو۔ "چند باقی دار بزرگوں نے وی پی کے نوٹس لے کر واگزاشت نہیں کرائے۔"      ( ١٩٣٣ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ١٧، ٨:١ )